ادیب رائے پوری ۔۔۔ آلِ نبی نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر

آیا نہ ہو گا اس طرح رنگ و شباب ریت پر
گلشنِ فاطمہ کے تھے سارے گلاب ریت پر

جانِ بتول کے سوا کوئی نہیں کھلا سکا
قطرۂ آب کے بغیر اتنے گلاب ریت پر

جتنے سوال عشق نے آلِ رسول سے کیے
ایک سے بڑھ کے اِک دیا سب نے جواب ریت پر

عشق میں کیا لُٹائیے عشق میں کیا بچائیے
آلِ نبی نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر

تَرسے حسین آب کو، میں جو کہوں تو بے ادب
لمسِ لبِ حسین کو ترسا ہے آب ریت پر

لذّتِ سوزشِ بلال، شوقِ شہادتِ حُسین
جس نے لیا یونہی لیا اپنا خطاب ریت پر

آلِ نبی کا کام تھا آلِ نبی ہی کر گئے
کوئی نہ لکھ سکا ادیب ایسی کتاب ریت پر

Related posts

Leave a Comment